خوشبو ۔۔۔

f

حیرت سے دیکھتا ہوں ، تعجب بھِی کر رہاہوں

پھولوں کو دیکھتے ہیں ، کیوں پھول جیسے لوگ

ہم بھِی ملے بہت ہیں ، خوشبو کے تاجروں سے

خوشبوجو بانٹتے ہیں  بےمول ۔۔۔ ایسے لوگ

ہر چند قلیل ہیں پر، ہیں سب میں یہ نمایاں

بستے ہیں  خوشبوں میں، پھولوں میں رہتے  لوگ

پھر کوچ کر نہ جائیں، کہِیں یہ بچھڑ نہ جائیں

اس شہرِپُر خزاں میں ،کب ٹھہرے  ، ایسے  لوگ  ,

Advertisements

سوال، جواب

qa

جواب مانگو، سوال پوچھو

اُدھار مجھ پر، حساب پوچھو

ہے من یہ  صحرا، ازل سےہے پیاسا

ہیں بادل تو برسے۔۔ مگر پھر بھِی ترسا

  نہیں۔۔۔  کیوں یہ  اب تک  سراب ، پوچھو

 ہے کیا چاہ میری، میں کیا چاہتا ہوں

نہیں گر  طلب کچھ ، تو کیا مانگتا ہوں

 دُعائیں ہیں  کیوں میری  بے تاب ،  پوچھو

کہ اک خلش ہے ازل سے ساتھی

ہمیشہ ہمراہ، ہے بے کلی بھِی

ہیں جھیلے کیوں یہ ۔۔۔ عذاب پوچھو

سیارہِ محبت

سیارہ

 

روز اشکوں میں بہا آتے ہیں

درد کو ہم جمع نہیں کرتے٫

لذ تِ درد یہ کچھ ایسی راس آئی ہے

قصدا” ہم دوا نہیں کرتے

یہ کیا کہ خواب اور ، یاد میں ہی عُمر کٹے

اس طرح تو جیا نہیں کرتے

  ہم  محبت کے سیارے کی ہیں مخلوق اے دوست

لوگ ہم جیسے ، زمیں پربسا  نہیں کرتے

چابی

key2

زندگی کے تالے کی
چابیاں بدلتا تھا
روز آزماتا تھا
اک نئی لگاتا تھا
زندگی کا تالا پر
پھر بھِی کُھل نہ پاتا تھا
چابیاں بدلنے سے
روز آزمانے سے
خود بھی تھک سا جاتا تھا
بھیگتی سی آنکھوں میں
بے بسی سی پاتا تھا
اور شام ڈھلتے ہی
حوصلے بکھرتے ہی
ختم جستجو کرے
ترک آرزو کرکے
 
خواب اوڑھ کر اپنے
نیند کے جزیروں پر
میں قیام کرتا تھا
پھرکرن سویرے  کی 
مجھ کو گُد گُداتی تھی
چابیاں وہ تالے کی
پھر مجھے تھماتی تھی
چابیوں کا گچھا وہ
پھر سے تھام لیتا تھا
زندگی کے تالے کو
بے بسی سے تکتا تھا
اس طرح تسلسل سے
چابیاں  بدلتے ہوئے
خود سے روز لڑتے ہوئے
حل سمجھ میں اک آیا
چابیوں کا گچھا وہ
دور پھینک کر میں نے
تالا توڑ ڈالا ہے
حل یہی نکالا ہے

محبت ۔۔۔

Rlife

اس زمین تا آسمان ۔۔۔ محبت ہے

اور جو ہے درمیان ۔ محبت ہے

گرچہ لہجے میں نفی کا تاثر ہے

آنکھ سے پھر بھی  ، عیاں محبت ہے

 ذات اپنی  فنا  میں ، کر بیٹھا

پھر بھی مجھ سے بد گمان محبت ہے

تم کرو  آباد نفرتوں کے شہر

میرا تو بس جہاں ۔۔۔ محبت ہے

ہے جزا بھی ، اک صلہ، انعام بھی

ساتھ ہی اک امتحاں ۔۔ محبت ہے

جسکو مسکن کرلیتی ہے ،  اُس کا پھر

جسم، روح، دل اور زباں ۔۔۔ محبت ہے

اک جیون تو تھوڑا ہے ۔۔۔

جیون

 

 

کتنی باتیں ، ان کہی اب تک

کتنے شکوے باقی ہیں

غم کتنے بانٹے نہیں ہم نے

کتنے دکھڑے باقی ہیں

سارے دکھ سُکھ کرنے کو

اک جیون تو تھوڑا ہے

ان جانے، ان سُنے ہیں اب تک

سُر لاکھوں ، سنگیت ہزاروں

رقم ہوئے،   برسہا برس جو

ان گنے نغمے ، گیت ہزاروں

پر ان سب  کے  سُننے کو

ایک جیون تو تھوڑا ہے

وقت کے ہاتھوں سرک چکے ہیں

کتنے دور اور کتنے پل

کتنے حال ،بنےہیں  ماضی

 کتنے آج ، جو ہوئے ہیں  کل

گذری گھڑیاں  گننے کو

اک جیون تو تھوڑا ہے

جانے دل کی  کتنی باتیں

 ذہن کےجانے کتنے خیال

سُلجھانی  ہیں  الجھنیں کتنی

کتنے مُعمے، کتنے سوال

اور ان کے حل کرنے کو

اک جیون تو تھوڑا ہے

کہیں پھر کچھ نہ ہوجائے۔۔۔

inseurity

 
کبھِی جو مہربان ہوکر
ہمیں رستے بلاتے ہیں
ہمارے سنگ چلنے کو
قدم وہ بھی بڑھاتے ہیں
اندیشے گھیریں سوچوں کو
وہم پھر ۔۔۔ روکیں قدموں کو
کہیں منزل نہ کھوجائے
کہیں کچھ پھر نہ ہوجائے
 
ہیں منظر دلنشیں۔۔ بے شک
بہت دلکش ہے ، یہ موسم
رفاقت بھی میسر ہے
بڑا پرکیف ۔۔ ہے عالم
مگر ممکن ، ہو سب دھوکہ
فقط ہو کھیل لمحوں کا
کہیں پھرسب نہ کھو ہوجائے
کہیں کچھ پھر نہ ہوجائے
بھٹک کر ، کھو گئے ہیں
مٹ چکے ہیں ، کارواں کتنے
ہیں دور اپنی بھی منزل
فاصلے ہیں درمیاں کتنے
ارادہ اب سفر کا ۔۔۔
کوچ کا یارا۔۔۔ نہیں ممکن
نہیں ممکن ہے عزم نو
دوبارہ … نہیں ممکن
کہیں موسم، سفر، یا ہم سفر
نا مہرباں ہو جائے
کہیں پھر سب نہ کھو جائے
کہیں پھر کچھ نہ ہوجائے