ساماں

ساماں

تنہائیوں کا عادی، خلوت نشین تھا جو

لوگوں نے آُسکی لحد پہ میلے سجادیئے

وہ میرا اک سوال ، لمحوں کی بات تھی

وہ اک جواب ،  تم نے زمانے لگادیئے؟

تاراج کرکے دُنیا ، فاتح  وہ کہلائے

کچھ نے زبان کُھولی، سولی چڑھادیئے

جب ساتھ  تھا، تو مُجھ کو سدا مُعتبر کہا

بچھڑا تو سارے عیب ہمارے  گِنوا دیئے

کاغذ، قلم، خیال ، عبادت اور جستجو

تنہاہیوں کے سارے سامان سجا دہئے

پھر اندھیرا ، روشنی کھانے لگا ہے ۔۔۔

sun

فریبِ جھوٹ میں سچ آنے لگا ہے

پھر اندھیرا روشنی کھانے لگا ہے

کس کس ستم کا اپنے مداوا کروگے تم

ترس تم پہ ہم کو اب آنے لگا ہے

بے وجہ تو نہیں ہے اس کی یہ ناراضگی

دیکھ سورج آگ برسانے لگا ہے

خوش وہی اس دور میں ، بے حس ہے جو

فلسفہ ہم کو سمجھ آنے لگا ہے

 

زنجیریں

زنجیریں

پھر کوِئی خواب ، کہیں آرزو نہ بن جائے

یہی ہے خوف جو یہ نیند یں  روک رکھی ہیں

قفس کے باہر، گُھٹن اور بھی زیادہ ہے

اسی خیال سے زنجیریں اُوڑھ رکھی ہیں

 

جزیرے ۔ ۔ ۔

جزیرے ۔ ۔ ۔

مُہیب شب میں ستارے چمکتے دیکھے ہیں

دامنِ سنگ میں گُل بھی مہکتے دیکھے ہیں

 کب یہ ہر بار ہوا ہے مقام ِدل یہ رہیں

ہم نے سینوں میں پتھر بھی رکھے دیکھے ہیں

  غرق  ہر بار ہی  قدرت کرے،  لازم تو نہیں

سمند روں   سے جزیرے ،  اُبھرتے دیکھے ہیں

جو اہلِ دل ہیں ، وہ خلوتوں کے قائل ہیں

 سینہَ سیپ میں  جوہر ہی  چُھپے دیکھے ہیں

وہ جو اس عشق کو سوداےَ سر ہی کہتے رہے

پھول خود  اُنکی کتابوں میں رکھے دیکھے ہیں

 

منزل سے آگے۔۔۔

safar2

سفر کچھ اس طرح سے بن گیا عادت اپنی

شوقِ سفر میں ، منزل سے آگے نکل گئے

ہے انتہاےَ عشق جنوں، معلوم سب مگر

گستاخ اسقدر ہیں ، حد سے گزر گئے

مزاج یوں بھی  ہے کچھ شاعرانہ،  کیا کہیے

نکلے لبوں سے لفظ جو،  شعروں میں ڈھل گئے

چہروں پہ بھی خزاں نے ڈ یرے جما لئے

ڈھونڈو زرا گلا ب سے وہ لب ، کدھر گئے

تم خواب میں ملے پر محسوس سچ ہوا

خوشبو مہک گئی تھی ، جگنو بکھر گئے