لفاظی۔۔۔

 

لف

 

سچ کی خوشبو سے باتوں کو معطر  رکھنا

جھوٹ شامل ہو تو لفظوں سے بھی بوآتی ہے

دن کی رونق میں وحشت یہ کیسی اُتری ہے؟

کہیں کسی  نے کیا  زنجیرِ عدل ہلا دی ہے ؟

زبانِ یار قصیدے محبتوں کے پڑھے

 جھوٹ غالب ہے،بناوٹ ہے ، لفاظی ہے

میرا ذہن یہ  سمجھنے سے ان کو ،قاصر ہے

یہ میرا   دل کہ جن حرکتوں کا عادی ہے

 

بوند یں۔۔۔

barish

بارشوں کا یا د وں سے

رابطہ مُسلسل ہے

بارشوں کے موسم میں

اک سزا بھی شامل ہے

بوند بوند چنگاری

بوند بوند کرچی ہے

بوند یں تازیانے ہیں

بوند بوند برچھی ہے

 

ابر کے برسنے پر

 آگ کہیں  اک  جلتی  ہے

 بارشوں میں ہی اکثر

چنگاری سُلگتی ہے

بوندیں چیرتی ہیں جگر

دل پہ جاکے پڑتی ہیں

زہر بن کر بوندیں

زخموں پہ ٹپکتی ہیں

 بارشوں کے یہ موسم

درد میں ڈھل جاتے ہیں

ان  برستی بوندوں  میں

اشک بھی مل  جاتے ہیں

بارشوں کا یادوں سے

رابطہ مُسلسل ہے

بارشوں کے موسم میں

اک سزا بھی شامل ہے

 

جستجو ۔۔۔

talash

 

میں مسلسل اک تلاش

تو  مسلسل اک حجاب

میں  مکمل اضطراب

تو سراپا بے نیاز

میری ہستی جستجو

تو کے  پیہم ایک راز

حاضرکبھِی  ، غائب کہیں

کیونکر  ہو راز و نیاز ؟

 

 

 

 

صحرا اور بادل

تر

صحرا پیاسا ہا نپ  رہا ہے

بوجھ سے ریت کےکانپ  رہا ہے

ریت کے لب بھی چٹخے سے

ٹیلے آگ میں تپتے سے

پنچھی کے پر جلتے سے

شجر جو ہیں وہ جُھلسے سے

تُو تو سایہ بن سکتا ہے

دھوپ کو کچھ کم کرسکتاہے

تجھ سے انکا  جیون ، بادل

 سوکھے جل  بھر سکتا ہے

دور ہی دور چلا جاتا ہے

مینہ یہ  یہاں کب برسے گا ؟

رخ تیرا ہے کس کی جانب

کب تک صحرا ترسے گا؟

کس کو تو سیراب کرے گا؟

جانے کہاں  جا نکلے گا

یونہی بن میں  برسے گا

یا  ندّ یا ،کو  بھردے گا

کیسا بےحس، کتنا سنگدل

کتنا تو چالاک  ہے بادل

کیسا ستمگر، ظالم  کتنا

کتنا تو سفّاک  ہے بادل

 

غافل۔۔۔

hmd

وہ سفر تمام بھی ہوچکا

میرے میت منزلیں پا گئے

مجھے نیند غافل کر گئی

میرا کارواں ہی نکل گیا

میری عُمریونہی گُذر گئی

یہ تو راکھ بن کے بکھر گئی

 گئی زندگی۔۔۔ پر کد ھر گئی؟

میرے ہاتھوں وقت نکل گیا

جو تھا  پُہنچا تیرے دیار میں

میں جو رو د یا تھا تڑپ تڑپ

وہ تھا ایک دن اور آج تک

یونہی سلسلہ یہ نکل  پڑا

 

دُعا

dua2

مجھے دکھا وہی رستہ ، جو تیرے د ر کو جاتا ہے

میں ڈھونڈتا وہی کوچہ ، جو تیرے گھر کو جاتا ہے

میں پشیمان ہوں گناہ گار ہوں، نادم ، ہوں خطا کار

کہیں نہ تو بھی ٹُھکرا دے ، یہ ڈر ستاتا ہے

ہیں تیرے در کے سوالی، ہیں جھولیاں خالی

کہ شاہ بھی تیرے منگتے، مگر تو داتا ہے

راہ تاریک یا روشن ہو ، سب برابر اب

کہ آنکھ بند بھی کر لوں نظر وہ آتا ہے

 

برف اور موم

candle

کئی یاد یں تھِیں، کئی روگ تھے ، کچھ ندامتیں ، کئی بوجھ تھے

میرے مرنے کے تھے سبب کئی، کوئی ایک اسکی وجہ نہ تھی

میرے دوست بےشمار تھے، میرا نام لیتے تھے پیار سے

وہ سماعتوں کی طلب تھی جو، وہی ایک اُن میں صدا نہ تھی

 کبھی  موم سا میں پگھل گیا ، کبھی منجمد ہوا برف سا

میں نے بات مانی تھی زیست کی میری مرضی اس میں ذرا نہ تھی