گُڑیا ۔۔۔

gurriya

“زینب ، رانیہ کو وقت پر سُلا دینا، مجھے دیر ہو جائے گی “

مسز امجد اپنی تیرہ سالہ ملازمہ کو تاکید کرتےہوئے تیزی سے گاڑی کی جانب بڑھیں ، جہاں ڈرائیور گاڑی کا دروازہ کھولے ان کا انتظار کر رہا تھا۔

مسز امجد اعلی سوسائٹی کی ایک بااثر شخصیت کے طور پر جانی پہچانی جاتی تھیں۔ اندرونِ اور بیرونِ ملک دورے ان کے معمول کا حصّہ تھے۔ خواتین کی این،ج،او چلانے کے ساتھ ساتھ کئی اور سماجی اداروں سے وابستہ تھیں۔ ان کی اسقدر مصروفیات کا سبب بھی یہی تھا کہ انہیں گھر اور گھر داری سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی۔ ان کے نزدیک ساری زندگی محض گھر داری میں اُلجھ کر اپنی صلاحیتوں کو ضائع کر دینا ، سراسر گھاٹے کا سودا تھا۔ عورت کی آزادی اور ترقی کی وہ شدید حامی تھیں۔ سچ مانیں تو انہیں گھر داری کی کوئی خاص ضرورت بھی نہ تھی۔ خانساماں، ڈرائیور، آیا، مالی کے ہونے کے  ساتھ ساتھ زندگی کی ساری سہولتیں تو انہیں میسر تھیں۔ ایسے میں ان خیالات کا ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہ تھی۔

 چا سالہ رانیہ ان کی واحد اولاد تھی۔ شہر کے بہترین تعلیمی ادارے میں زیرِتعلیم تھی۔ اسکول کی تیاری سے لیکر رات سونے تک کے تمام کام اس کی آیا کے ذمے تھے۔ پڑھانے کے لئے گھر پر ٹیوٹرکا انتظام تھا۔ کبھی کبھی جب مسز امجد فارغ ہوتیں تو وہ اسکی پڑھائی کے حوالے سےٹیوٹرکو ہدایات دے دیتی تھیں۔

اُس روز رانیہ اسکول سے واپس آکر اپنے کھلونوں سے کھیل رہی تھی۔ اس بار جب مسز امجد دُبئی گئیں تھیں تو اور بہت سارے کھلونوں کے علاوہ وہ اس کے لئے بہت بڑی سی گُڑیا بھی لائی تھیں۔ رانیہ اُس گڑیا کو ہر وقت اپنے پاس رکھتی۔ مسز امجد اس وقت بھِی اپنی کسی میٹنگ کی تیاری کر رہی تھیں۔ رانیہ بار بار گُڑیا کو پیار کرتی اور اُسے سینے سے لگاتی ۔ مسز امجد اُسے یوں مصروف دیکھ کر مطمئن ہوگئیں اور خود میٹنگ کے لئے روانہ ہو گئیں۔

کچھ روز بعد انھوں نے دوبارہ رانیہ کو گڑیا کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا۔ آج وہ تھوڑی دیر کے لئے فارغ ہوئیں تو ٹی۔وی روم میں رانیہ کے قریب بیٹھ کر ٹی،وی پر کوئی دلچسپ پروگرام دیکھنے لگیں۔ ٹی، وی دیکھتے ہوِئے غیرارادی طور پر ان کی نظر رانیہ پر پڑی تو وہ گُڑیا کوگالوں پر پیار کر رہی تھی ، مسز امجد نے غور کیا تو وہ ساتھ ہی ساتھ کچھ کہہ بھی رہی تھی۔ “ماما کو کچھ مت بتانا ، ورنہ چاکلیٹ نہیں ملے گی “، مسز امجد کو سب کچھ عجیب سا لگا۔ جب رانیہ نے گڑیا کو دوبارہ پیار کیا اور وہی جملہ دہرایا تو مسز امجد کو اپنے بدن میں سنسنی سی دوڑتی محسوس ہوئی۔انہوں نے ایک دم رانیہ کو مخاطب کیا تو وہ فور’ا خاموش ہو گئی۔ یوں جیسے ڈر سی گئی ہو۔ مسز امجد نے بڑے پیار سے اُسے اپنے قریب کیا اور پوچھا کہ وہ کیا کہہ رہی تھی۔ جوابا”رانیہ پھر خاموش رہی۔ مسز امجد نے قدرے نرم لہجے دوبارہ  پوچھا تو وہ کہنے لگی ” ماما ، اگر میں نے آپ کو بتایا تو وہ مجھے چاکلیٹ نہیں دیں گے “، ” کون چاکلیٹ نہیں دے گا “؛ مسز امجد نے اپنے لہجے میں نرمی پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی ۔ ” ماما ڈرائیور انکل مجھے اپنی گود میں بٹھا کر پیار کرتے ہیں اور چاکلیٹ بھِی دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر میں نے آپ کو بتایا تو وہ آئندہ مجھے کبھی چاکلیٹ نہیں دیں گے ” رانیہ خاموش ہوگئی۔ مسز امجد کو اب مزید کسی سوال کی ضرورت نہیں تھی۔ ۔ انہوں نے اپنے چکراتے ہوئے سر کو تھاما اور اپنا موبائل فون اُٹھا کر ایک نمبر ملایا ، دوسری طرف سے کسی کے ہیلو کہنے پر بولیں ،”آج میری طبیعت ٹھیک نہیں اس لئے تقریب میں میری شرکت سے معزرت قبول کریں۔ “

وہ آج شہر کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ہونے والی تقریب کی مہمانِ خصوصی تھیں جس کا عنوان تھا “معاشرے میں ، بچّوں پر بڑھتے ہوئے جنسی تشّدد کے اسباب “۔

نامکمل ۔۔۔

dwarf

 

 

انتہائی کوتاہ قد آدمی نے  ریسٹورینٹ کا دروازہ کھولنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا ہی تھا کہ ہمارے آگے موجود فیملی کی سات ، آٹھ سال کی بچّی نے اپنے والد کا ہاتھ کھنچتے ہوئے کہا ” ابّو ابّو وہ دیکھیں ، مونچھوں والا بچّہ۔۔ “، یہ کہہ کر وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔ بچّی کا والد ، اس کا ہاتھ پکڑ کا آگے بڑھ گیا۔ میری نظر اُس پر پڑی تو اس کے چہرے کی مسکراہٹ کے پیچھے چُھپا رنج اور اسکی آنکھوں کی نمی کو محسوس کرکے میرے دل میں بھی اُداسی کی لہر اُتر گئی۔ میں اور میرا دوست ایک ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئے۔ میں ایسی جگہ پر بیٹھا تھا جہاں سے وہ بار بار دروازہ کھولتے ہوِئے مجھ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ جو بھِی اندر داخل ہوتا بہت رحم کھاتی نظروں سے اُس کو دیکھتا اور آگے بڑھ جاتا۔ وہ ہر بار ان کی نظروں میں چھُپےترس اور رحم کو محسوس کرنے کے باوجود ایک پھیکی مسکراہٹ سے ان کا استقبال کرتا۔ بعض لوگ اس کے چھوٹے قد کے سامنے اپنے مناسب قد کو بہت اونچا سمجھتے ہوئے فخریہ انداز میں آگے بڑھ جاتے۔ وہ محض اپنے قد کی کمی کی وجہ سے معاشرے کا ایک ٹھکرایا ہوا انسان بن کر رہ گیا تھا جہاں ہر شخص خود کو مکمل سمجھتے ہوئے قابلِ رحم نظروں سے اُسے ٹٹولتا ،  یا جہاں وہ محض بچّوں کی دل لگی کا سامان تھا۔ جہاں اُس پر پڑنے والی ہر نظربار بار  اُسکی عزتِ نفس کی دھجیاں بکھیرتی تھی، مگر اپنے نامکمل پن کے ساتھ، مکمل لوگوں کے درمیاں موجود ہونا اُسکی مجبوری تھی۔

کھانے سے فراغت کے بعد ، میرے دوست نے بل ادا کیا۔ تھوڑی دیر میں ویٹر بقایا پیسوں کے ساتھ واپس آیا، خالی برتن اُٹھائے اور واپس چلا گیا۔ اسی دوران میرے دوست نے بقایا پیسے گنے اور اپنے بٹوے میں رکھ لئے۔ کرسی سے اُٹھتے ہوئے اُس نے ہلکے سے میرے کان میں سرگوشی کی “غلطی سے زیادہ پیسے واپس کر گیا ہے “، اُس نے آنکھ کا ایک کونا دبا کر کہا ۔

” تو تم ان کے پیسے واپس کر دو “؛ میں نے اُسکی بات سنکر فورا” کہا ۔

” ارے رہنے دو ، یہ لوگ بھی تو کئی بار زیادہ بل بنا دیتے ہیں “، یہ کہکر وہ میری بات سنی ان سنی کرتے ہوئے ،  تیزی سے دروازے کی طرف بڑھ گیا ، اور میں حیرت زدہ ہوکر اُس کے پیچھے دروازے کی جانب  بڑھا۔

دروازہ حسبِ معمول اُسی کوتاہ قد شخص نے کھولا۔ ۔ میں نے اپنا بٹوہ نکالا اور سو روپے کا نوٹ ٹپ کے طور پر اُس کی طرف بڑھایا اور اس کے چہرے کی طرف دیکھے بغیر باہر نکل آیا۔

ابھی میں چند ہی قدم چلا ہوگا کہ اپنےپیچھے کسی کے بھاگنے کی اور کسی کے پکارنے کی آوازسُنائی دی ۔ “صاب ۔۔۔صاب “، وہ بھاگتا ہوا میری جانب آرہا تھا۔ قدم چھوٹے ہونے کی وجہ سے یہ مسافت طے کرنے سے اُسکی سانس پھول گئی تھی۔ میرے قریب آکر اس نے ایک لمحے کو توقف کیا اور اپنی بے ترتیب سانسوں کے ساتھ اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا “صاب ۔۔۔ یہ اُپ کے پرس سے گر گیا تھا ” ، اس نے ہانپتے ہوئے کہا۔ میں نے اس کےچھوٹے سے  ہاتھ میں ، پانچ ہزار کا نوٹ دیکھا جو اس نے میری طرف بڑھایا ہوا تھا۔ میں نے اپنے دوست کی طرف دیکھا، حیرت اور شرمندگی سے اُس کی آنکھیں زمین میں گڑھی ہوئی تھیں ۔ اُس وقت وہ شخص  مجھے میرےدوست کے مقابلے میں کہیں زیادہ قد آور لگا، اور بظاہر نامکمل ہوتے ہوئے بھی ہم سب سے زیادہ مکمل ۔۔۔

 

 

 

 

 

 

 

 

فلسفہ محبت کا ۔۔۔

philos

نا معلوم کب مجھے اُس سے محبت ہوگئی۔

وہ میرے ساتھ کالج میں پڑھتا تھ۔ا۔ واجبی شکل و صورت مگر انتہائی مہذب اور شاہستہ مزاج۔ بظاہر دیکھنے میں اُس میں کوئی بھی ایسی غیر معمولی بات نہ تھی کہ کسی کو پہلی نظر میں اُس سے محبت ہو جائے مگر اس سے ملنے کے بعد کوئی بھِی اس کی شخصیت کے سحر میں گرفتار ہوئَے بنا نہیں رہ سکتا تھا۔ مجھَے اُسکی علمیت اور قابلیت پر رشک آتا تھا۔ لفظوں سے گفتگو کی ایسی مالا پروتا کہ داد دینے کو جی چاہتا تھا۔ اس سے باتوں میں گھنٹے لمحوں میں گذر جاتے اور وقت کا پتہ ہی نہ چلتا۔ یاسر کی طرح مجھَے بھِی تاریخ، فلسفے اور نفسیات پر بحث کرنا بہت اچھا لگتا تھا، اور وہ ہر ہر موضوع پر گھنٹوں بول سکتا تھا۔ کالج کے تقریری مقابلوں میں اسکی علمیت اور قابلیت کا صحیح پتہ چلتا۔ ہر بار تالیوں کے شور میں وہ اسٹیج پر آتا اور ٹرافی لے جاتا۔

کالج میں ہمیں تقریبا’ چھ مہینے بیت چکے تھے۔ اس عرصے میں ہمارے اور بھی بہت سارے دوست بن گئَے تھے۔ جن میں یقینا’لڑکیاں اور لڑکے سبھِی شامل تھے ۔ دوسری لڑکیوں کی آنکھوں میں یاسر کے لئَےچھپی پسندیدگی کی جھلک صاف نظر آتی تھی  ۔ یاسر کو بھِی اپنی مقبولیت کا اچھی طرح اندازہ تھا۔ فارغ پیریڈ میں وہ لڑکیوں کے دائرے میں بیٹھا دور سے ہی نظر آجاتا۔ مجھے اس کی مقبولیت پر رشک تو آتا مگر وہ ان سب میں مجھےزیادہ توجہ دیتا اس لئے مجھے باقی لڑکیوں سے کوئی خطرہ محسوس نہ ہوتا۔

وقت گذرتا رہا اور ہم دونوں نزدیک سے نزدیک آتے گئے۔ میں اس کی محبت کے قلعے  میں اس طرح محصور ہو گئی کہ باہر کی دنیا سے میرے دل کا رابطہ تقریبا” منقطع ہو گیا۔

وقت گذرتا گیا۔ کالج ختم ہوا تو میں مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکی۔ یاسر نے یورنیورسٹی میں داخلہ لے لیا ۔ ہمارا رابطہ قائم رہا۔ کبھی کبھی کہیں باہر مل بھی لیتے تھے۔ مگر وقت کے ساتھ اُس کے فون آنے کم ہوگئے ۔ اور پھر رفتہ رفتہ اُس نے  فون کا سلسلہ ، بغیر کسی وجہ کے ختم کردیا۔ میں نے بارہا اُس نے رابطہ کرنے کی کوشش کی ، مگر اُس کے نمبر سے کوئی جواب نہ ملتا۔ شاید  اُس نے نمبر ہی بدل ڈالا تھا۔

پھر مجھے اپنی محبت کے قلعے کی اونچی فصیلوں کو عُبور کرکے باہر آنا پڑا۔ باہر کی دنیا میں کچھ بدلا ہو کہ نہ بدلا ہو، مگر میرے اندر کی دنیا میں بہت بدلاوآچکا تھا۔ لوگوں سے میرا اعتبار اُٹھ چکا تھا۔ مجھے کسی سے اُنسیت محسوس نہ ہوتی۔ دنیاداری ، رشتوں اور ذمہ داریوں کا بوجھ یوں تو خوش اسلوبی سے نبھاتی رہی مگر اب کسی رشتے کے لئے دل کے اندر کوئی حدت،رغبت، کوئِ والہانہ پن یا گرمی محسوس نہ ہوتی۔ یوں لگتا پورے وجود میں ٹھنڈ ہی ٹھنڈ اُتر گئی ہو۔  ایک خالی پن تھا۔ ایک  بے حس وجود تھا جو رسومِ دنیا بڑے سلیقے سے نبھا رہا تھا۔

اور پھر ایک مدت بعد ۔۔۔۔ میری اُس سے دوبارہ ملاقا ت ہوگئی۔

وہ اپنی گاڑی سے اُتر رہا تھا۔ اور میں اُس کی گاڑی کے ساتھ کھڑی اپنی گاڑی میں بیٹھ رہی تھی۔ اچانک میری نظر اُس پر پڑِی۔ وہ جو یکسر بدل گیا تھا، بظاہر زرا سا بھی نہیں بدلا تھا۔ بس اب آنکھوں پر نظر کا چشمہ اور کنپٹیوں پر سفید ی کی ہلکی سی جھلک ۔ مجھے اس کو پہچاننے میں زرا سی بھی دیر نہ لگی۔ میرا وجود اُسے دیکھ کر ساکت ہوگیا تھا۔ میں نے گاڑی میں بیٹھنے میں زرا سا توقف کیا تو اُس نے جھنجھلا کر میری جانب دیکھا۔ شاید اُسکی کار کا دروازہ میری وجہ سے پوری طرح کھل نہیں پا رہاتھا۔

شازیہ تم ! ” وہ صرف اتنا ہی کہہ سکا ۔“

 “آپ ۔۔۔۔ ” اس سے آگے میں بھِی کچھ نہ کہہ پائی۔

تھوڑی دیر تک دونوں طرف خاموشی رہی۔ مگر اس زرا سی دیر میں میں اس کے ساتھ بیتے اور اس کے بغیر گُزرے ہزاروں  لمحوں  کا سفرطے کرکےواپس  آگئی تھی۔ اس کی آواز دینے پر چونک کر اُس کی طرف متوجہ ہوئی ۔

“کیسی ہو ؟” اُس نے پوچھا۔

“کیسی لگ رہی ہوں ؟ ” میں نے جواب دینے کے بجائے اُلٹا اُس سے سوال کردیا۔

” اچھی لگ رہی ہو ۔۔۔ پہلے کی طرح ” ، اُس نے مختصر سا جواب دیا۔

میں اب خاموش تھی۔ میرے پاس پوچھنے کو بہت کچھ ہونے کے باوجود، کچھ بھی نہیں تھا۔ میرے سوال اور اُس کے جواب میرے زخموں کا مرہم بن سکتے تھے اور نہ اُس کے دیَے ہوئے  دکھوں کا مداوا کرسکتے تھے۔

“آو ۔۔ کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ “۔ وہ آہستہ سے جھجھکتے ہوئے گویا ہوا۔

“کہاں ؟” میں انکار نہ کر سکی۔

“یہ ساتھ ہی میرا آفس ہے۔ وہیں چلتے ہیں “۔ اُس نے کہا۔

ٹھیک ہے ” ۔ میں نے ہلکے سے سر ہلایا۔

ہم دونوں نے اپنی اپنی گاڑی لاک کی اور میں اُسکے پیچھے پیچھے قریبی واقع ایک بلڈنگ میں اُس کے آفس آگئی۔

آفس کا کمرہ بہت خوبصورت تھا اور اس کی اٰعلی پوسٹ پر ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔اُس نے انٹرکام پر چائے کے لئے کہا۔”‏میں سمجھا تھا تم مُجھے پہچان لینے کے بعد مجھ سے ناراضگی کا اظہار کروگی۔ مجھے بُرا بھلا کہوگی۔ شاید ایک آدھ تھپڑ بھی مار دو۔ مگر تم تو بالکل پُرسکون ہو۔ جیسے ہمارے درمیان کچھ بھی نہ ہوا ہو۔ اورہم صرف  دو اچھے دوست رہے ہوں جو ایک عرصے بعد مل رہے ہوں۔ “۔ اُس نے قدرے ہچکچاتے ہوئے بات شروع کی۔”

“ہمارے درمیان کیا ہوا تھا “، میں نے پھر ایک سوال کیا۔

“ہم نے محبت کی تھی ” ، اس نے قدرے جھجھکتے ہوئے کہا۔

” نہیں یاسر ، ہم نے محبت نہیں کی تھی۔ تم سرے سے محبت کو سمجھ ہی نہ سکے ، اور میں ٹھیک طرح سے محبت کر ہی نہ سکی ۔ تمہارے لئے محبت محض خود کو آسودہ کرنے کا بہانہ تھا۔ تم بار بار مختلف لوگوں سے اپنے لئے پسندیدگی کا اظہار چاہتے تھے۔ تمہاری محبت ، محبت نہیں ، بلکہ خود کو چاہے جانے کی مسلسل خواہش تھی۔ تم شاید صرف میرے بار بار اظہار سے اُکتا گئے تھے ، تمہیں ہر بار ایک نیا چہرہ، نیا پیکر اور نیا انداز چاہئے تھا اپنے لئے۔ مجھے اپنی ایک دوست سے، جو تمہاری یورنیورسٹی میں ہی تھی ، پتہ چلاتھا کہ تم اپنی محبتیں بدلنے میں کافی ماہر ہوچکے ہو۔ ہر آئے دن تمہارا افیئر کسی نہ کسی لڑکی سے چل رہا ہوتا ہے۔ معاف کرنا یاسر ،، مگر تم اپنے آپ سے محبت کرکے اپنی شخصیت کا بُت بنا کر خود کو ہی پوجنے لگے۔ تم جیسے لوگ محبت کی اصطلاح پر پورا ہی نہیں اُترتے۔ افسوس تم نے اتنا فلسفہ لوگوں کو سمجھایا مگر خود محبت کا فلسفہ نہ سمجھ سکے۔  رہی میری محبت کی بات ، توشاید میرے جیسے لوگ محبت کرنا  ہی نہیں جانتے۔ اگر میری محبت میں طاقت ہوتی تو وہ تمہیں کبھِی جانےہی  نہ دیتی۔ جس طرح  ‌‌ شاگرد کی ناکامی میں استاد کا بھی برابر قصور  ہوتا ہے۔ ۔ اور نالائق اولاد کی غلط تربیت میں والدین بھی پوری طرح شریک ہوتے ہیں ۔ اسی طرح محبت میں ناکامی کا دوش کسی ایک کو دینا غلط ہے۔   محبت سچی ہو تو کچے گھڑے پر محبوب سے ملنے نکل پڑتی ہے۔ اور عشق کے سمندر میں ڈوب کر بھی تیر جاتی ہے۔ میں نے بھی شاید محبت کا صحیح حق ادا نہیں کیا۔ میں تمہیں محبت کا مطلب ہی نہ سمجھا سکی۔  میری محبت اگر سچی ہوتی تو میں تمہارے انتظار میں ، محبت کے قلعے کی اونچی فصیلوں کے اندر ہی ساری زندگی گذاردیتی ۔ تمہاری راہ دیکھتی ، شاید تم کبھی لوٹ آتے۔محبت میں  قربانی تو میں نے بھی نہیں دی ناں”

بولتے بولتے میری آواز کپکپانے لگی تھی۔

یاسر کی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگی تھی۔

“مجھے معاف کردینا “یاسر نے جھکی نظروں سے کہا۔

“معافی ہم دونوں کو محبت سے مانگنی چاہیے۔ ہم اس کا حق ہی ادا نہیں کر سکے۔ اور جو لوگ محبت کا حق نہ ادا کرسکیں ، اُنہیں محبت کرنے کا کوئی حق نہیں “،

یاسر ناجانے کتنی دیر تک ٹھنڈی ہوتی چائے کی پیالی کو دیکھتا اور محبت کے  فلسفہ پر غور کرتا اور اُسے سمجھنے کی کوشش رہا ۔اور  اُسے پتہ ہی نہ چلا اور میں اُس کے آفس سے اُٹھ کر باہر آگئی ۔

ندامت ۔۔۔

haq

“بھوکوں کو کھانا کھلاو، اللہ راضی ہوتا ہے “،

وہ جب بھِی بازار سے گُذرتی ، یہ آواز اُس کی کان میں پڑتی۔ بوڑھا فقیر نہ جانے کتنے عرصے سے یہی آواز لگا رہا تھا۔ اور وہ ہر بار ایک ندامت کے احساس کے ساتھ اُس کے پاس سے گُذر جاتی تھی۔ اُسکا بڑا جی چاہتا کہ وہ اس فقیر کو کھانا کھلادے مگر جب گھر میں خود کھانے کے لالے پڑے ہوں تو کسی نیکی کا خیال بھی حماقت لگتا ہے۔ ” آخر نیکیوں کی توفیق بھی امیروں کے حصّے میں ہی کیوں آتی ہے۔ دولت زیادہ ہوتو غریبوں میں بانٹنے کے لئے دیگیں منگوائی جاتی ہیں۔ کسی کو حج کروادیا جاتا ہے۔ کسی کی شادی کا خرچ اُٹھالیا جاتا ہے،  اور کسی کے علاج کا۔ اللہ کی مہربانی اگر اور زیادہ ہو تو ہسپتال بنوا دیا جاتا ہے یا کوئِ تعلیمی ادارہ قائم کر دیا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے سارے امیر لوگ ہی  جنت میں جائیں گے، ان کی دنیا بھِی جنت ہے اور آخرت بھِی اور غریب بے چارہ دنیا میں بھی خوار ہوتا ہے اور آخرت کی بھی کوئی گارنٹی نہیں۔ ناصرہ سوچ سوچ کر کُڑھ رہی تھی۔

ناصرہ بچپن سے ہی بہت حسّاس واقع ہوئی تھی۔ میٹرک میں تھی کہ باپ کا انتقال ہوگیا۔ اب دو چھوٹی بہنوں اور ماں کی ذمہ داری ناصرہ کی کندھوں پر آپڑی تھِی۔ ایک پراِئمری اسکول میں ٹیچنگ کرتی اور شام کو ٹیوشن پڑھاتی مگر پھر بھِی گھر کا کرایہ، بجلی کے بل، بہنوں کی اسکول فیس، باورچی خانے کا راشن، ماں کا علاج ۔۔ یہ سب اسکی لگی بندھی کمائی سے بڑی مشکل سے پورا ہوتا تھا۔ ایسے میں اگر رشتہ داروں میں سے کسی کی شادی وغیرہ کی دعوت آجاتی تو سارا بجٹ چوپٹ ہوجاتا تھا۔

آج مہینے کی شروع  کی تاریخ تھِی، کل ہی تنخواہ ملی تھی، وہ اپنے کمرے میں بیٹھی مہینے پھر کے سودے کی لسٹ بنا رہی تھی۔ “بیٹا میری دوائی ختم ہوگئی ہے یہ بھِی لیتی آنا “، ناصرہ کی ماں نے ڈاکٹر کا نسخہ اُسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ “اور میری اردو کی کاپی بھِی ختم ہوگئی ہے باجی ۔۔۔ وہ بھی لے آئیے گا۔ ” ننھِی راحیلہ نے اماں کے پیچھے پیچھے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔ “اچھا گُڑیا۔۔۔ میں لسٹ میں لکھ لیتی ہوں تاکے بھول نہ جاوں ” ناصرہ نے مُسکرا کر پرچے پر لکھتے ہوئے کہا۔

“اچھا امّی میں چلتی ہوں “، ناصرہ نے اپنی چادر اوڑھی اور خدا حافظ کہہ کر  باہر نکل آئی۔

بازار میں اپنی مطلوبہ دوکان پر پہنچی ہی تھی کہ اُسے فقیر بابا کی صدا سُنائی دی۔

” بھوکوں کو کھانا کھلاو۔۔۔اللہ راضی ہوتا ہے”،

وہ اپنی مطلوبہ اشیا کی لسٹ دوکاندار کو تھمانے ہی لگی تھی کہ اچانک اُسے کچھ خیال آیا۔ اُس نے جھٹ سے قلم نکالا اور لسٹ میں ایک اور اضافہ کر کے ، لسٹ دوکاندار کے ہاتھ میں دے دی۔

دوکان سے نکل کروہ رُکی،  اُس نے سودے کے تھیلے میں سے ایک چھوٹا سا پیکٹ نکالا اور مُٹھی بھر باجرے کے دانے  لے کر ہوا میں اُچھال دیَے۔

    بھوکوں کو کھلاو، اللہ راضی ہوتا ہے “،  فقیر کے سامنے سے گذر تےہوئے آج اُسے کوئی ندامت نہیں تھی۔

اظہار

 

خط

وہ تیزی سے پارک کی سمت جارہا تھا۔ اسکی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی۔

“کہیں وہ چلی نہ گئی ہو ” اُس نے زیرِ لب بڑبڑاتے ہوئے خود کلامی کی۔

یہ اسکا روز کا معمول تھا۔ وہ شام کو کام سے فارغ ہوکر پارک جاتا تھا۔ گھر جانے کی اسے کوئِ جلدی نہ ہوتی۔ گھر جلدی جاکر کرنا بھِی کیا تھا۔ ساجدہ کی شکل سے اسے وحشت ہوتی تھِی۔ ریں ریں کرتے بچوں میں ساجدہ نے خود کو ایسا مصروف کیا کہ اُسے بھِی زاہد کی جلدی واپس آنے کی کوئِ خوشی نہ ہوتی پہلے ہی اوپر تلے کی تین کیا کم تھے کہ زاہد کے گھر واپس آتے ہی اُس کے پانی، چائے اور کھانا پیش کرنے  میں خود کو مزید بے حال کرنا پڑتا۔ اس لیے زاہد جتنی دیر سے گھر آتا ، ساجدہ اُتنی ہی سکون سے رہتی۔ ٫

دو ہفتے پہلے پارک میں سستاتے ہوئَے ، زاہد کی نظر اچانک اُس پر پڑی تھی۔ بینچ پر بیٹھی وہ قریب ہی کھیلتے ہوئے بچّوں کو دیکھر کر محظوظ ہو رہی تھی، اُس کے گورے رنگ پر گلابی رنگ کے کپڑے خوب جچ رہے تھے، اُسکی دھیمی دھیمی سی مسکراہٹ سے لگتا تھا کہ جیسے وہ ان بچّوں میں اپنا بچپن تلاش کر رہی ہو۔

شکر کہ وہ زاہد کی طرف متوجہ نہیں تھی۔ ورنہ زاہد کو اس طرح ٹکٹکی باندھ کر اپنی طرف دیکھتا دیکھ کر وہ اُس کے بارے میں نا جانے کیا رائے قاَۃم کرتی۔

دوسرے روز زاہد نے پھر اسکو وہیں بیٹھے دیکھا۔ ناجانے کیوں پارک میں داخل ہوتے ہیں زاہد کی نظریں اُسے ڈھونڈنے لگتیں تھیں۔

پھر تو زاہد کو روز کا معمول ہوگیا۔ وہ لڑکی سے تھوڑی دوروالے  بینچ پر بیٹھا کن اکھیوں سے آسے دیکھتا رہتا تھا۔ وہ اُسے بہت اچھی لگنے لگی تھی۔ آج کل کام زرا دیر سے ختم ہونے کی وجہ سے وہ زرا دیر سے پارک پُہنچتا تھا۔ اُسے تقریبا” دوڑتے ہوئے آنا پڑتا تھا۔ پسینے سے شرابور جب وہ آسے دیکھتا تو اُس کی ساری تھکن دور ہوجاتی۔

کچھ روز تو یہ سب سلسلہ اسی طرح چلتا رہا، مگر پھر زاہد نے اپنا حالِ دل اس لڑکی کو سُنانے کا فیصلہ کیا۔

اگلے دن بہت ساری ہمت اکھٹی کر کے وہ لڑکی کے ساتھ والے بینچ پر بیٹھںے کی بجائے اس کے ساتھ زرا سے فاصلے پر جاکر بیٹھ گیا۔ لڑکی اس وقت آسمان پر ُڑتے پرندوں کو دیکھنے میں محو تھی۔ زاہد کے قدرے قریب بیٹھنے پر وہ کچھ سمٹ سی گئی ، زاہد نے کہنے کو بہت کچھ سوچ رکھا تھا مگر اس وقت  اس کے زہن کی تختی بالکل کوری ہوچکی تھی۔ زاہد نے کچھ کہنا چاہا مگر حلق تھا کہ خشک ہوکر تالو سے جا چپکا تھا۔ وہ اپنی انگلیاں چٹخاتا رہا اور لڑکی کچھ ہی دیر میں اُٹھ کر چلی گئی۔

وہ روز اپنی کوشش میں ناکام ہوتا رہا۔ اور اس کی بے چارگی اور ذہنی اذیت بڑھتی چلی جارہی تھِی۔

اج اُسے قدرے دیر ہوگئی تھی۔ زاہد نے آج سے اذیت سے نکلنے کا تہیہ کر لیا تھا۔ تیز تیز قدم اُٹھاتے ہوئے ، پسینے میں شرابور وہ پارک پہچا تو وہ اپنی جگہ پر ہی بیٹھی تھی۔ زاہد حسبِ معمول اس سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گیا۔ وہ بولنے سے پہلے اپنے لفظوں کو تول ہی  رہا تھا کہ اچانک اُس لڑگی نے اپنے بیگ میں سے ایک کاغذ اور قلم نکالا اور کچھ لکھ کر کاغذ کا وہ ٹکڑا زاہد کے ہاتھ میں تھما دیا۔اور خود فور”ا وہاں سے اٹھ کر چل گئی۔

یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ زاہد کو کچھ سمجھ نہ آیا۔ جس پیغام کو دینے کے لئے وہ اتنے دنوں سے بےقرار تھا، وہ پیغام خود اُس لڑکی نے دے دیا۔ جو ہمت وہ نا کر سکا وہ ہمت اُس لڑکی نے کر دی۔” میرے خدا تو اتنا مہربان ہوسکتا ہے، میں اتنا خوش قسمت ہو سکتا ہوں ، یہ تو میں خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا”۔ اس اچانک ملنے والی خوشی سے اس کے ہاتھ بری طرح کپکپا رہے تھے، دل بلیوں اچھل رہا تھا۔ اس نے ماتھے پر آیا پسینہ پونچھتے ہوئے تہہ کئے ہوئے کاغذ کو کھولا۔ اُس میں لکھا تھا،”میں بول نہیں سکتی ، اس لَئے مجھے لکھ کر کہنا پڑ رہا ہے، برائے مہربانی آپ اپنے بیٹھنے کی کوئی اور جگہ تلاش کرلیں کیونکہ مجھے پارک کے اسی کونے میں بیٹھنے کی عادت ہے اُپ کے وجود سے اُٹھنے والی پسینے کی بو کی وجہ سے میرے لئَے یہاں بیٹھنا دوبھر ہوجاتا ہے، اُمید کرتی ہوں آپ میری بات کا بُرا نہیں منائیں گے۔” زاہد کو لگا کاغذ کے الفاظ زور زور سے قہقہے لگا رہے ہوں ۔

زاہد نے کاغز کو گولہ بنا کر وہیں پھینکا ،اورگھر کی طرف دوڑپڑا۔  گھر کے دروازے سے داخل ہوتے ہی ساجدہ کو آواز  دی،”ساجدہ، ایک کپ چائے بنا کر لاو ، میں جب تک نہا کر آتا ہوں”

جلن

Burning-soul

اتنی دیر؟؟؟

…اور کتنی دیر

تپتے شب و روز  کی جھلساتی گرمی

اس  تن کو

 جلا  کر راکھ کرتی رہے  گی

یہ تپش ایام کی

میرے بدن  کو

مانند خاک کرتی رہے  گی

اور کتنی دیر

  خشک لکڑی سا وجود

وقت کی آگ میں

 میں جھُلستا ،  چٹختا رہے  گا

اور کتنی دیر یہ تماشا ِغم دوراں

اس جاں  کو جھیلنا ہوگا

اس درد و جلن کومسلسل سہنا ہوگا

اورآخر

 کتنی دیر ۔۔۔

 بدستور یہ نظارہ

ان انگارہ ہوتی آنکھوں کوکرنا ہوگا

اور کتنی دیر؟؟؟

بھول

forget

چل دیا ، کرنے  ضروری کام اور

ہم بھی تھے اُسکی ضرورت ، بھول کر

ہاتھ اُٹھتے ہیں ، دعائیں یاد نہیں

 گمُ کہاں ہوں میں عبادت ، بھول کر

لوگ بدلتے ہیں ، یقین کرتا  نہیں

 خود سے کرتا ہوں ، بغاوت بھول کر

لا پتہ ، ہم  وسعتوں میں ہو گئے

اتنی چاہت کودی، وسعت  بھول کر

یاد رکھنے کا وہ وعدہ کر رہا

بھولنے کی اپنی  عادت ، بھول کر

من میں نشتر آج بھی پیوستہ پر

دو گھڑی ساری کدورت بھول کر

پھر سے اے دل، قصدِملاقات تو کر

سارے شکوے اور شکایت بھول کر

خوشبو ۔۔۔

f

حیرت سے دیکھتا ہوں ، تعجب بھِی کر رہاہوں

پھولوں کو دیکھتے ہیں ، کیوں پھول جیسے لوگ

ہم بھِی ملے بہت ہیں ، خوشبو کے تاجروں سے

خوشبوجو بانٹتے ہیں  بےمول ۔۔۔ ایسے لوگ

ہر چند قلیل ہیں پر، ہیں سب میں یہ نمایاں

بستے ہیں  خوشبوں میں، پھولوں میں رہتے  لوگ

پھر کوچ کر نہ جائیں، کہِیں یہ بچھڑ نہ جائیں

اس شہرِپُر خزاں میں ،کب ٹھہرے  ، ایسے  لوگ  ,

سوال، جواب

qa

جواب مانگو، سوال پوچھو

اُدھار مجھ پر، حساب پوچھو

ہے من یہ  صحرا، ازل سےہے پیاسا

ہیں بادل تو برسے۔۔ مگر پھر بھِی ترسا

  نہیں۔۔۔  کیوں یہ  اب تک  سراب ، پوچھو

 ہے کیا چاہ میری، میں کیا چاہتا ہوں

نہیں گر  طلب کچھ ، تو کیا مانگتا ہوں

 دُعائیں ہیں  کیوں میری  بے تاب ،  پوچھو

کہ اک خلش ہے ازل سے ساتھی

ہمیشہ ہمراہ، ہے بے کلی بھِی

ہیں جھیلے کیوں یہ ۔۔۔ عذاب پوچھو

سیارہِ محبت

سیارہ

 

روز اشکوں میں بہا آتے ہیں

درد کو ہم جمع نہیں کرتے٫

لذ تِ درد یہ کچھ ایسی راس آئی ہے

قصدا” ہم دوا نہیں کرتے

یہ کیا کہ خواب اور ، یاد میں ہی عُمر کٹے

اس طرح تو جیا نہیں کرتے

  ہم  محبت کے سیارے کی ہیں مخلوق اے دوست

لوگ ہم جیسے ، زمیں پربسا  نہیں کرتے