Sehar

الفاظ زندہ رہتے ہیں

عورت ، روٹی اور مرد ۔۔۔

punjabi-lady-making-roti-AN35_l

 

‘امّاں۔۔۔ میں نے نہیں کرنی اسلم سے  شادی۔۔ ابّا کے برابر تو اُس کی عمر ہے۔’  سولہ سالہ رضیہ نے روتے ہوئے کہا۔

‘دیکھ رضیہ ، جب میری شادی ہوئی تھی ناں تو تیرا ابّا بھی مجھ سے عمر میں اتنا ہی بڑا تھا۔ پر اب دیکھ کوئی پتہ چلتا ہے ہماری عُمروں کا فرق۔ پھر دیکھ تیری تین اور چھوٹی بہینں ہیں ، تو شادی نہیں کرے گی تو اُن کی باری کب آئے گی؟ اور اب تیرے ابّا کی اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ گھر کے آٹھ ،دس لوگوں کے لئے  روٹی کما کر لا سکے۔

_________________

‘چل اُٹھ رضیہ ، کیا سارا دن پڑی چارپائی یا  روٹیاں  توڑتی رہتی ہے۔ میں سارا دن خون ، پسینہ کی کماِئی کرکے لاتا ہوں اور تم ہو کہ سوائے کھانے اور سونے کے کوئی اور کام ہی نہیں ‘ ، رضیہ کے شوہراسلم  نے رضیہ کو زہر آلود نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

______________________\

‘امّاں میں اور آمنہ باہر جارہے ہیں ،ہمیں دیر ہوجائے گی۔ تو روٹی کھا لینا۔ ‘ رضیہ کے بیٹے امجد نے معمول کا گھسا پٹا جملہ قدرے لاپروائی سے ،  موٹرسائیکل اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔

رضیہ نے توے پر پکتی روٹی کو حسرت سے دیکھا۔ اُسکی ڈبڈباِئی آنکھوں میں اُسکا بچپن، جوانی اور بڑھاپا گھوم رہےتھے جہاں اُسے  اپنا  باپ، شوہر اور بیٹا اپنے اپنے ہاتھوں میں روٹیاں اُٹھائے ایک مدار میں رقص کرتے اور قہقہے لگاتے  ہوئے نظر آرہے تھے اور وہ  اس مدار کے گرد چکر لگا تے ہوئے لپک لپک کر اُن سے روٹیاں چھیننے کی کوشش کر رہی تھی۔

Advertisements

کچھ تو ہو ۔۔۔

junoon

حاسلِ جُنوں ۔۔۔۔۔۔ کچھ تو ہو
ہم کو سُکوں ۔۔۔۔۔ کچھ تو ہو

جس کو  کو اپنا کہتا ہے تو
اُس کا بھی تو۔۔۔ کچھ تو ہو

کیسے مانیں ۔۔۔ تم زندہ ہو
درد یا آنسو ۔۔۔۔ کچھ توہو

تم کہتے ہو، ‘کیا ہونا ہے ؟’
پر میں چاہوں ۔۔۔۔’ کچھ تو ہو ‘

کچھ وجہ ہو ، اس جینے کی
جستجو۔۔۔ آرزو ۔۔۔ کچھ تو ہو

 

ہمیں انصاف چاہیے ۔۔۔

ابھی کچھ اور باقی ہے؟
ابھِی کچھ اور رہتا ہے؟
عمل شیطاں ، سے بد تر ،
انساں یہ خود کو کہتا ہے
قیامت جس کو کہتے ہو
کیا اُسکی شکل ہے کچھ اور؟
کیا صد مہ بڑھ کے کوئی ہے؟
کیا اسکی مثل ہے کچھ اور؟
بتاو وہ پتہ ہم کو
جہاں انصاف ملتا ہے
دکھاو وہ جگہ ہم کو
جہاں پر عد ل ہوتا ہے
کسی زینب کی حرمت کے
جہاں رکھوالے رہتے ہیں
کسی بیٹی کی عزت کو
بچانے۔۔۔۔ والے رہتے ہیں
کریں فریاد تو کس سے
کہ یہ اندھیر نگری ہے
سُنے ان کی دہائی کون؟
کہ یہ بہروں کی بستی ہے
یہاں قانون جنگل کا
جہاں پر وحشی رہتے ہیں
سزا کا خوف کیا ان کو
کہ جن کے ہاتھ لمبے ہیں
وہ خونِ عد ل کرتے ہیں
قانون، تاراج کرتے ہیں
میری روشن عدالت میں
اندھیرے راج کرتے ہیں
دوبارہ پھر سے ماضی میں
ہمیں کیا لوٹنا ہوگا؟
زنجیرِعدل ہوگی پھر؟
کوئی جہانگیر سا ہوگا؟

فلسفہَ محبت ۔۔۔

loveAllah

 

زمین پر رہنے والوں سے محبت کرنے کے صلے میں ۔۔۔آسمانوں والا تم سے محبت کرنے لگتا ہے۔

خالق تک جانے کا راستہ ، مخلوق کے درمیان سے گزرتا ہے۔ مخلوق کے درمیان رہنے سے ۔۔ خالق خود قریب آجاتا ہے۔

محبت بڑی ضدی ہوتی ہے، محبوب مجازی کے نہ ملنے پر بھی مایوس نہیں ہوتی اور مسلسل ریاضت کے نتیجے میں ، محبوبِ حقیقی کو پا لیتی ہے۔ اور یہی اُسکی بڑی کامیابی ہے۔

محبت کا کوئی رنگ، مذہب، فرقہ نہیں ہوتا ، محبت کرنے کے لئے صرف ایک بہت خوبصورت دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کے پاس دل کی دولت ہوتی ہے اُسے صرف انسانوں سے نہیں بلکہ چرند ، پرند سے بھی پیار ہوجاتا ہے۔

محبت کوئی گہرا فلسفہ، کوئی راز نہیں ہے ۔۔اگر تم محبت کو جان لو تو یقین کرو تم خدا کو جان لو گے۔

اگر تم واقعی محبت کرنا جانتے ہو تو یقین مانو تم بے حد خوش قسمت ہو۔ اور اللہ تم پر بے حد مہربان ہے۔ یہ مہربانی وہ اپنی مخلوق میں سے چُنے ہوئے چند لوگوں پر ہی کرتا ہے۔

اگر تم محبت کے جواب میں محبت نہ پاو تو اس میں قصوروار تم نہیں بلکہ وہ ہیں جو اہلِ زمین کو ملنے والے سب سے حسین تحفے سے محروم رہ گئے تم تو وہ خوش قسمت ہو جن کے دل کو  یہ تحفہ عنایت کیا گیا ہے۔

اور اگر کسی کے محبت تم پاو تو اس کی بہت قدر کرنا۔۔ کہ بے قدر سے پڑا بد نصیب اور کوِئی نہیں۔

 

تمنا ۔۔۔

wish2

خواہشیں زندگی سے لپٹی ہیں

زندگی خواہشوں میں سمٹی ہے

  اور جینے کی ہے ابھی چاہت

 کیا تمنا ہے ، نہیں جو مٹتی ہے

مت یہ پوچھو کہ  کیسے کا  ٹی ہے

 کیا بتاوں کہ کیسے کٹتی ہے

میں تو اک سمت چلنا چاہتا ہوں

زندگی  ،  پر راستے بد لتی ہے

میرا موضوع وہی پرانا ہے

تم نے پر بات پھر سے بد لی ہے

میرے اطراف ، شور سا برپا

دل میں پر خاموشی سے اُتری ہے

کیا ہی اچھا ہو ،  ہو تماشہ اب

بھیڑ لوگوں کی تو اکٹھی ہے

 

دوستی کے نام ۔۔۔

angles-often-sent-as-friends-daily-quotes-sayings-pictures

کبھی جو درد شدت کا

ہمیں آنسو رُلاتا ہے

کوئی صدمہ، کوئی دھوکہ

ہمارا دل دُکھاتا ہے

تو مرہم بن کے ملتے ہیں

یہ دل کے گھاو بھرتے ہیں

اندھیرے گر جو بڑھ جائیں

جو رستے سے  بھٹک جائیں

بڑی دشوار راہ ہو پھر

 طویل اک سلسلہ ہو پھر

کبھی یہ ہاتھ تھامیں گے

کبھِی مشعل یہ بنتے ہیں

کبھی جو ناو جیون کی

بھنور میں ڈوبنے لگتی

یقین جب ڈگمگاتا ہے

اُمید یں ٹوٹنے لگتیں

تو ایسے میں یہی بڑھ کر

کنارے پر لے آتے ہیں

اندھیروں میں سحر بنکر

نئی  روشن کرن بنکر

پیامِ  صبح  بنتے ہیں

نہیں رشتہ ، مگر پھربھی

سبھِی رشتوں سے بڑھ کے ہیں

ہمیشہ ساتھ رہتی ہے

 مسلسل وہ  دُعا ہیں یہ

کڑا جو  وقت گر آئے

تو پھر اک آسرا ہیں یہ

ہماری دلجمی کرکے

کبھی کچھ دل لگی کرکے

ہمارے ساتھ ہنستے ہیں

ہمیں پھر ساتھ میں لیکر

اُمید وں کے جزیرے پر

ستاروں سے  چمکتے ہیں

جو مخلص دوست ہوتے ہیں

  اصل میں  وہ فرشتے ہیں،

ہمارا ساتھ دینے کو

زمِن  پر جو اُترتے ہیں

 

سولہ دسمبر ۔۔۔

aps2

 

سکول تھا جو بھیجا
پر یہ تھا کس نے  سوچا
کہ لاڈلے کو اپنے 
رخصت میں کر رہی ہوں

آواز وہ تمہاری
کانوں میں گونجتی ہے
خوشبو تمہاری اب بھی
محسوس کر رہی ہوں

وہ سینے سے لگی ہے
اب بھِی تمہاری فوٹو
وہ آنسووں کے قطرے
شیشے سے پونچھتی ہوں

اب بھی سنبھال کرسب
رکھی تمہاری چیزیں
وہ کاپیاں، کتابیں
ہر روز چومتی ہوں

دن ایک بھی تو ایسا
تیرے بنا نہ گذرا
خوابوں میں تم سے اب بھی
ہر روز مل رہی ہوں

وہ جھیل کر قیامت
یہ جسم پھر بھی زندہ
ہوں زندہ میں بظاہر
پر زندہ کب رہی ہوں۔۔۔